کراچی یکم مارچ(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)پاکستان میں ممتاز قادری کی پہلی برسی کے موقع پر ریلیاں نکالنے اور احتجاجی عوامی اجتماعات کے انعقاد پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ قادری کو پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کے قتل کے جرم میں گزشتہ برس پھانسی دے دی گئی تھی۔پاکستانی صوبہ پنجاب کی حکومت کے ترجمان ملک احمد خان نے اس بارے میں کہا، ’’ہر قسم کے احتجاج اور ریلیاں نکالنے پر پابندی عائد ہے، بالخصوص سلامتی کی موجودہ صورت حال میں۔‘‘ احمد خان نے پاکستان م?ں ہونے والے حالیہ دہشت گردانہ حملوں اور ان کے نتیجے میں سلامتی کی صورت حال کے تناظر میں بتائی۔توہین مذہب کے ہائی پروفائل مقدمے کی ملزم آسیہ بی بی کے لیے سزائے موت سے بچنا شاید ممکن ہوجائے کیوں کہ پاکستان کی سپریم کورٹ نے اگلے ہفتے سزائے موت کے خلاف آسیہ بی بی کی درخواست سننے کا فیصلہ کیاہے۔ماضی میں بھی اس تنظیم کی جانب سے ممتاز قادری کی سزائے موت پرعمل درآمد کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا اہتمام کیا گیا تھا۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ اس مرتبہ اس اتحاد میں شامل گروپوں کے ارکان لاہور سے اسلام آباد کے نواح میں واقع اس جگہ تک مارچ کرنا چاہتے ہیں، جہاں ممتاز قادری کودفنایاگیاتھا۔نیوزایجنسی روئٹرز کے مطابق مسلم اکثریتی آبادی والے ملک پاکستان میں ہر سال سو سے زائد افراد کے خلاف توہین رسالت یا توہین مذہب کے الزامات کے تحت فرد جرم عائد کر دی جاتی ہے۔ ان میں سے اکثر مسیحی یادیگرمذاہب یا مسالک کے ماننے والے ہوتے ہیں۔ اس متنازعہ پاکستانی قانون کے ناقدین کا دعویٰ ہے کہ یہ قانون اکثر ذاتی دشمنیاں نمٹانے یا ذاتی مفادات کے لیے غلط استعمال کیا جاتا ہے۔ تاحال مروجہ اس قانون کے تحت پاکستان میں توہین مذہب کا جرم ثابت ہو جانے پر کسی بھی ملزم کو سزائے موت سنائی جا سکتی ہے۔